April 2, 2010

PML N Torturing and abusing Balochs in Punjab

PML N, led by Mian Nawaz Sharif is a Punjabi Nationalist party but try to pose themselves as National Party.
Mian Nawaz Sharif terrorists are now a days busy in torturing and abusing the Balochs students studying in Punjab.

This news and interviews of Baloch Students shows the real face of Nawaz Sharif and Punjabi mindset.
If this is wrong and People of Punjab condemn it then the Civil Society, Lawyers, Journalists and Educated class of Punjab should come out and openly denounce this act otherwise, the people of Punjab will be held responsible and partner in crime in these henious acts of share Terrorism and Fascism.

One thing more important is the silence of So called Islamic Party Jamat e Islami and Taliban Boot Lickers Imran Khan who are quite over this.

I remember the days of 1970's when such things were happened in Punjab against Bangali Students.
Punjab Ka Logo Hoosh ka Nakhun loo, yeh kia ker rahay hoo ?



’ہمیں غدار اور بھارتی ایجنٹ کہتے ہیں‘

پنجاب میں‏ زیر تعلیم بعض بلوچ طلباء نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ساتھی پنجابی طالب علم انہیں غدار اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہونے کے طعنے دیتے ہیں جبکہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد واقعات سے دلبرداشتہ ہوکر بعض بلوچ طلباء نے تعلیم کا سلسلہ ہی منقطع کردیا ہے۔

پنجاب میں زیر تعلیم دو طلباء نورا بلوچ اور علیم بلوچ سے کنگ ایڈرویڈ میڈیکل کالج کے باہر ملاقات ہوئی۔
انہوں نے کالج یا ہوسٹل کے اندر ملاقات سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ اگر انہیں انٹرویو دیتے ہوئے دیکھ لیا گیا تو ان کا جانی یا تعلیمی نقصان ہوسکتا ہے۔

طلباء نے بتایا کہ ملتان فیصل آباد اور ساہیوال میں گذشتہ چند ہفتوں کےدوران بلوچ طالبعلموں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا ان پر فائرنگ کی گئی۔

پنجاب کے مختلف اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء نے اپنے بچاؤ کے لیے بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی پنجاب بنائی ہے جس کے پلیٹ فارم سے وہ متعدد احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں۔

نورا بلوچ بی ایس سی کے طالبعلم اور ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں ان کےبقول ایکشن کمیٹی کے کم از کم پانچ سو بلوچ طلبہ ان سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی دو مہینے قبل سب سے پہلے ساہیوال کے ٹیکنیکل کالج میں بلوچ طلباء پر حملہ ہوا اور پانچ طالب علم زخمی ہوئے۔ تین ہفتے بعد ملتان کے ٹیکنیکل کالج میں بلوچ طلباء پر تین حملے ہوئے جس میں دس طلباء شدید زخمی ہوئے۔ اس کے چند روز بعد فیصل آباد میں بلوچ طلباء پر دو حملے ہوئے جن میں سات بلوچ نوجوان زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا فیصل آباد میں بلوچوں پر فائرنگ بھی کی گئی۔

طالب علم نورا بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں بلوچستان میں پنجابی اساتذہ کے قتل کی وجہ سے انتقامی کارروائی کانشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ وہ اس معاملے میں بے قصور ہیں۔

طالب علم نورا بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں بلوچستان میں پنجابی اساتذہ کےقتل کی وجہ سے انتقامی کارروائی کانشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ وہ اس معاملے میں بے قصور ہیں۔
متاثرہ طلباء کاکہنا ہے کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری پنجاب میں زیر تعلیم بلوچ طلباء پر عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے اور وہ اپنے ساتھی پنجابی طلبہ کو یہ بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔

علیم بلوچ کلمہ چوک کے نزدیک اکاؤنٹنگ کے ایک ادارے میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں ساتھی پنجابی طلبہ کے طنز وطعنے ایک معمول کی بات بن چکے ہیں۔

علیم بلوچ نے کہا ہماری وضع قطع کی وجہ سے عام طور پر طلباء ہمیں پختون یا پٹھان سمجھتے ہیں لیکن جن کو علم ہوجاتا ہے کہ ہم بلوچ ہیں وہ کھلم کھلا ہم پر را کا ایجنٹ ہونے، غدار ہونے کے الزامات لگاتے ہیں اور کافر کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تم پاکستان توڑنے کی بات کرتے ہو، اینٹی پاکستان ہو‘۔

بلوچ طلبہ کا کہنا ہے کہ پر تشدد حملے کرنے میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نون یعنی ایم ایس ایف پیش پیش ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اس لیے مقدمات درج ہونے کے باوجود کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
بلوچ طلبہ پر حملوں کے خلاف ملتان اور ساہیوال میں فوجداری مقدمات بھی درج ہوئے لیکن پولیس نے کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا۔

بلوچ طلباء کا کہنا ہے کہ پر تشدد حملے کرنے میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نون یعنی ایم ایس ایف پیش پیش ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اس لیے مقدمات درج ہونے کے باوجود کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور ان سے بلوچ طلباء کے تحفظ کی اپیل کی۔

نورا بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد اگرچہ تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا لیکن ٹیلی فون پر دوسرے طریقوں سے سنگین نتائج کی دھکمیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ مسلم لیگ نون کی کسی ونگ کا کوئی رکن بلوچوں پر حملے میں ملوث نہیں ہوسکتا۔

لیکن نورا بلوچ کے بقول بلوچوں پر حملے کرنے والوں میں سر فہرست ایم ایس ایف نون ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ یا تو ایم ایس ایف میں شامل ہوجاؤ یا پھر پنجاب چھوڑ دو۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ بلوچ طلبہ پر حملوں کا ان کے ادارے نے فوری نوٹس لیا تھا البتہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ حالات اب بہتری کی جانب جارہے ہیں اور بلوچ طلبہ پڑھائی کی جانب لوٹ رہےہیں۔
ایم ایس ایف نون کے مرکزی صدر رانا ارشد نے بلوچ طلباء پر حملوں کے واقعات سے لاعلمی ظاہر کی۔ لیکن جب انہیں مقدمات کے اندراج کا حوالہ دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ صبح ہی معاملے کی تحقیقات کریں گے اور جو کوئی بھی بلوچ طلباء بھائیوں کو تنگ کرنے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے بلکہ اسے تنظیمی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ بلوچ طلباء پر حملوں کا ان کے ادارے نے فوری نوٹس لیا تھا البتہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ حالات اب بہتری کی جانب جارہے ہیں اور بلوچ طلباء پڑھائی کی جانب لوٹ رہےہیں۔

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نورا بلوچ کا کہنا ہے کہ پنجاب کے حالات سے دلبرداشتہ ہوکر فیصل آباد، ملتان اور ساہیوال میں زیر تعلیم درجنوں طلباء پڑھائی چھوڑ کر واپس بلوچستان چلے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سمجھانے پر چند طلباء لوٹ آئے ہیں اور باقی کو بھی ایکشن کمیٹی کے ساتھی تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ آئندہ پنجاب میں بلوچ طلباء کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

wibiya widget

Target Killers and their Heads in Karachi Exposed